Chun Chun Khayo Mass | Vinod Valasai


!!…… چُن چُن کھایو ماس …..!!

میں ھر روز صبح کا سورج نکلنے سے پہلے نیند کے نشے کو ترک کر کہ ننگے پاؤں گھر سے نکل جاتا تھا گھر کے سامنے روڈ ہے وہاں تھوڑی دیر بیٹھ کر آسمان کی طرف دیکھتا تھا اور پھر سے چلنے لگتا تھا، تھوڑا آگے ریت کا بہت بڑا ٹیلا ہے جس پر میں اندھیرے میں پہنچ جاتا تھا وہاں بیٹھ کر آسمان کی طرف اور فطری حسناکی کی طرف حسرت بھری نگھاہوں سے دیکھتا رہتا تھاـ سورج کی کرنیں سوکھی ہوئی جھاڑیوں کے بیچ میں سے گُذرتے میرے چھرے پر پڑتی تو میں اُٹھ جاتا اور واپس گھر کی طرف روانہ ہوتا تھا ـ واپس آتے ہوئے آئے دن میں مرے ہوئے پرندوں یا کسی جانور کو دیکھتا تھا جن کے جسم کو کُتے اپنے پیٹ کی آگ بُجھانے کے لیئے کھا رہے ہوتے تھے وہ مرا ہوا سرد و بے جاں وجود بھلا اپنی موت کا دکھ دائک داستاں کیسے بیاں کرتا، وہ وہاں صحرا کے بیچ پڑے ہوئے ہوتے تھے جہاں چڑیا کی چونچ ڈبونے جتنی بارش پڑتی ہے پھر سے قعط کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے مال ملتا ہے تو بااثر کے گدام بھرے جاتے ہیں وہ بھی ان مرے ہوئے جانور، پرندے اور نوزائدہ بچوں کی تصاویر کے بدولت…

سنا ہے میڈیا والوں کے بئنک اکاؤنٹ بھی اسی مد میں جانِ بھار ہوئے ہیں 

میں ھر روز ھر مرے ہوئے جانور کی آنکھوں میں دیکھتا تھا مجھے روز ان خاموش آنکھوں سے بیبسی کے ھزار داستاں ملتے تھے اور سب جانوروں یا پرندوں کی ایک ہی خواھش تھی جس کے لیئے ان کی آنکھیں مرتے ہوئے بھی آسمان کی طرف تھیں ـ انھوں نے اپنا جسم چھوڑ دیا اپنا وجود چھوڑ دیا لیکن ان کی آنکھوں کو ابھی بھی امید ہے اُس ساون کی جھری کی اور اُن ٹپٹپاتی ساون کی بودوں کی جس کا ذائقہ چکھنے کے لیئے صحرا صحرا بھٹکے ہیں  ……… میں جب بھی کسی مرے ہوئے جانور کے پاس آتا تھا تو کنوے ان کے جسم کو نوچ نوچ کہ کھا رہے ہوتے تھے تب ان کے وجود سے دردناک سانحیاتی آواز نکلتی تھی 

اے کانگا سب تن کھایو ـ مارا چن چن کھایو ماس

دو نینا مت کھایو جن کو ـ پیا ملن کی آس

“کبیر”

میں یہاں وہاں دیکھتا تھا، سوائے سوکھی ٹنُڈ موسم اور گرمی سے جسم کو ٹھکانے والی قیامت نماں سورج کے کرنوں کے کچھ نظر نہیں آیا کرتا تھا …  میں ایک درخت کے نیچے بیٹھ جاتا تھا جو مکمل سوکھ گیا تھا مگر اس کے وجود میں تپتی ہوئی دھول ہے ـ خشک سالی کی وجہ سے اپنا سب کچھ کھو بیٹھا ہے بس صرف سُوکھی ہوئی شاخیں بچی ہیں …… آج بھی میں معمول کے مطابق اُسی ہی درخت کے نیچے بیٹھا ہی تھا اچانک کچھ بھوکے پرندوں نے مجھ پر حملا کیا اور بھوک میں تیز دھار بنی ہوئی چونچ سے میرے پیٹھ کے ماس کو نوچنے لگے میں نے مزاحمت کی پرندے اُڑ گئے کسی خاموش غذا کی تلاش میں ـ 

میں نے اپنا سر اُٹھاکر نظروں کو آسمان کی طرف کیا اور پیاسی اور بیبس بنی آنکھوں سے ایک قطرا نکل کر میرے کان کے اوپر سے ہوتا ہوا بالوں میں اٹکا اور وہیں جذب ہو گیا ـ آسمان مکمل خالی تھا ایک چھوٹا سا سفید ساڑھی کے پلُو جیسا بادل یہاں وہاں گھوم رہا تھا…… پرندوں کے نوچنے سے میرے پیٹھ سے خون بہنے لگا تھا ـ گر رُک کیا تو بھوکے پیاسے ان پرندوں کا شکار بن جاؤں گا میں رُکنا نہیں چاہتا مجھے آگے جانا ہے ـ میں اُٹھ کہ آگے بڑھنے لگا ـ تھوڑا آگے کونج پرندہ پیاس میں بیحال اپنا منہ آسمان کی طرف کر کہ چونچ کو کھول کہ بیٹھا تھا ـ انھیں بھی تلاش تھی بارش کے چند بوندوں کی … میں نے کونج کو اُٹھایا اور وہاں سے آھستہ آھستہ قدم آگے بڑھاتے اوپر آسمان کی طرف دیکھا اب دو بادل ہو گئے تھے… آگے چلنے لگا مجھے پیاس تھی،میرے ہونٹ سوکھ گئے تھے میرا وجود زندہ لاش بن گیا تھا لیکن میری ٹانگوں نے ساتھ نبھانے کا وعدہ جو کیا تھا ابھی تک وہ مجھے گرنے نہیں دے رہی …. پھر سے نظریں آسمان کی طرف گئی اب پانچ بادل ہو گئے تھے ـ مجھے سکون ملا جیسے …. جیسے مجھے میری زندگی کا سندیس ملا ہو ـ اس بار میں خوشی سے تھوڑا تیز چلنے لگا،مجھے پتا نہیں لگ رہا تھا کہ آگے جارہا ہوں یا گھوم کہ واپس اُسی جگہ آرہا ہوں، اب میرا پورا وجود نڈھال ہو گیا تھا ٹانگوں نے میرے وجود کو یتیم کر دیا تھا میں …. میں اب بھی آگے جانا چاھتا ہوں لیکن ..لیکن کیسے……. میں نیچے گر گیا میرے گرنے سے پرندوں میں کھلبلی مچی وہ ایک دوسرے کو دعوت دے کر لے آئے میرے جسم سے کھیلنے کہ لیئے میری آنکھیں آسماں کو دیکھ رہی ہیں اور پرندے میرے جسم کے ماس کو نوچ کہ کھا رہے ہیں … اے پنچھیو میرے میرے جسم کے پیاسو، میرے وجود کو مٹا دو، سب کھا دو مگر میری آنکھوں کو نا چھیڑنا مجھے کسی کے آنے کا انتظار ہے ـ وقت بیتا چلا گیا اب میرے جسم سے ھڈیاں نظر آنے لگی تھیں نظر اوپر اٹھتی ہے اب آسماں میں دو بادل ہیں…..

بے تحاشہ الفاظ نکلتے “بادلو بادلو کچھ تو برس جاؤ ـ اس بیاباں میں ایک شب کے لیئے رُک بھی جاؤ”  “ایاز”

میرے اس صحرا میں جہاں ہمارے منتخب مقدس اسیمبلی اور ان کے ممبران اور صوبے کا بڑا صاحب سب تماشائی ہیں بیٹھ کر مقدس ایوان میں تھر کے دکھوں اور دردوں کو ھنستے مسکراتے ٹالتے ہیں اور ایک پانی بوتل دے کر سینکڑوں تصاویر بناتے ہیں ـ وہاں  فطرت بھی کچھ کم نہیں کرتی نا موسم کا وقت سر آنا نا بارش کا برسنا، نا ھوائوں کا دل کو چُھو دینے والا احساس نا سکون کی نیند نا زندگی کے لیئے چند گندم کے دانے.  بس گُذر رہی ہے زندگی بے جاں وجود کی مانند …….

میں خیالوں کے محرابوں میں اپنے سوچ کی سیڑھی کے پائدان دھیرے دھیرے چڑھ ہی رہا تھا اچانک پرندوں کا حملا ہوا آنکھوں کو نوچنے لگے میں نے سر ہلایا پرندہ اُڑ گیا ـ کچھ دوری پر کونج پرندے کی چونچ ابھی تک کھلی ہے میری آخری نظر آسمان میں اب دو ہی بادل ہیں …..

میں سوگیا پرندے مجھ کو آدہی موت دے کر رات کے سناٹے میں کہیں کھو گئے آنکھیں کھلی تو آسمان کالا ہو چکا تھا، مجھے امید ہے بادل برسے گا لیکن امید شاید امید ہی رہے گی آسمان پر ستارے ایک ایک کر کہ چھُپ رہے تھے شاید ندا فاضلی کی شاعری کا منظر ہو گیا  ہو…..

شب کہ جاگے ہوئے تاروں کو بھی نیند آنے لگی 

آپ کے آنے کی ایک آس تھی اب جانے لگی 

ساری رات کٹ گئی اندھیرا اپنا بستر اُٹھا کہ صبح کی مدھم روشنی کو جگا کہ چلا گیا اب صبح اپنے سیج سے انگڑایاں لیتی اٹھ رہی ہے لیکن وہ بھی اکیلی آرہی ہے نا اس کے ساتھ میرے ارماں ہیں نا دکھوں کو ڈھانپنے والا کوئی بستہ ….

میرے اندر سے بے تحاشہ ندا فاضلی کے الفاظ نکلتے ہیں ..

صبح نے سیج سے اُٹھتے ہوئے لی انگڑائی 

اے صبح تو بھی آئی تو اکیلی آئی  

میرے محبوب میرے ھوش اُڑانے والے

میرے مسجود میرے روح پے چھانے والے

آ بھی جا تاکہ میرے سجدوں کا ارماں نکلے 

آ بھی جا تاکہ تیرے قدموں پے میری جاں نکلے ـ

نا محبوب نا مسجود نا سجدے کے لیئے مقدس قدم میرا محبوب پانی تھا میرے روح کی چاھت وہ بادل تھے جو غائب ہو چُکے تھے ـ سورج کی پہلی کرن میرے زخمی آنکھوں پر پڑی ـ اُس کرن کے ساتھ پنچھی بھی جاگ چُکے تھے بس چل دیئے کل کی بقیہ خوراک کی جانب ـ نا فرمان نا کسی کا انتظار نا کسی اجازت کے طلبگار بس آتے ہی میرے جسم پر ٹوٹ پڑے ….. ایک پرندے نے اپنے تیز دھار والی چونچ سے میری آنکھ پر وار کیا اور …… اور نکال دیا میرا نور میرا گلستاں……… میں چیکھنا چاھتا ہوں لیکن آوز نہیں نکل رہی ……

میری آنکھیں اب نہیں رہی…..  جسم کی ھڈیاں ظاھر ہو گ.ئی ہیں ……. آسماں کی طرف کیسے دیکہوں ….. بارش ابھی تک نہیں آئی


Words By :

© Vinod Valasai ( ونود ولاسائی )


 

Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *